کاروار ،23؍مارچ (ایس او نیوز) جب بھی ملک گیر یا ریاستی سطح پر بند منانے کا اعلان کیاجاتا ہے تو اس کا مکمل اثر شہروں میں ہی دکھائی دیتا ہے۔ چھوٹے گاؤں اور دیہاتوں میں پوری طرح بند کامیاب نہیں ہوا کرتا۔ لیکن کورونا وائرس کی وباء پر قابو پانے کی ایک تدبیر کے طور پر وزیراعظم نے ’جنتا کرفیو‘ کے نام سے جو ملک گیر بند منانے کا اعلان کیا تھاوہ ہرگاؤں اور دیہات میں بھی کامیاب رہا۔
لیکن تبصرہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اس طرح پہلی مرتبہ پورے ملک میں اپنے طور پر عوام کی طرف سے ایک مکمل کامیاب بند منانے کا اصل راز وہ جھوٹی خبر ہے جو سوشیل میڈیا پروائرل کی گئی تھی اور اس میں کہا گیا تھا کہ آسمان سے ہیلی کاپٹروں /ہوائی جہازوں کے ذریعے کورونا وائرس ختم کرنے والی دوا فضا میں اسپرے کی جائے گی، اس لئے کوئی بھی گھروں سے باہر نہ نکلے ورنہ اس کے مضر اثرات ہونگے۔

بعض خبروں میں رات کو دوائی اسپرے کرنے کی بات کہی گئی تھی، تو بعض مسیجس میں دن کے وقت دوائی گرانے کی خبر دی گئی تھی۔ اب عوام اس الجھن میں تھے کہ نہ جانے کب ہوائی جہاز یاہیلی کاپٹر ان کے علاقے میں نمودار ہوجائے اور دوائی اسپرے کرنے لگے اوراس کی زد میں آنے کی وجہ سے ان پر مضر اثرات ہوں۔ اسی خوف کے مارے دیہاتوں میں بھی تما م لوگ اپنے اپنے گھروں میں ہی بند رہے۔ اس خبر کا اثر یہاں تک ہوا تھا کہ بعض مقاما ت پر لوگوں نے اپنے اپنے گھروں کے کنوؤں کو تارپال، شیٹس یاچا دروں سے ڈھانپ رکھا تھا، تاکہ فضا سے گرائی جانے والی دوا پانی میں شامل نہ ہوجائے۔
خبرملی ہے کہ بھٹکل اور انکولہ سمیت کئی تعلقوں میں زیادہ تر گھروں میں سنیچر کی رات میں ہی کنوؤں کو پلاسٹک سے ڈھانپ دیا گیاتھا۔ جبکہ کنڑا میں وائس وہاٹس ایپ مسیج سننے کے بعد ہزاروں لوگوں نے یہی سمجھا کہ ہیلی کاپٹر سے دوائیں اسپرے ہونے والی ہے، لہذا گھروں سے باہر نہیں نکلنا ہے۔ ایسی بھی خبریں ہیں کہ کئئ خاندانوان نے سنیچر کے دن شام کو ہی دوسرے دن استعمال کرنے کے لئے اپنے کنوؤں سے پانی نکال کر جمع کرلیا تھا بعد میں کنویں ڈھانپ دئے تھے۔
سمجھا جارہا ہے کہ ضلع اُترکنڑا کے کئی ایک کنڑا گروپوں میں وائس مسیج وائرل ہوا تھا جس کی بنیاد پر کہا جاسکتا ہے کہ اس جھوٹی خبرنے جنتا کرفیو کو پوری طرح کامیاب کرنے میں بڑا کردار ادا کیا۔